عبدل دری نہیں بچھائے گا، اتحاد نہ ہوا تو ہوگا 'مہابھارت': اوویسی نے اکھیلیش کو دی پیشکش


ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی کے مطابق، تلنگانہ حکومت ریاست کے غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئی) کی شکایات کو دور کرنے کے لیے ایک خصوصی طریقہ کار کے قیام کے امکان کی تلاش کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد این آر آئیز کو تلنگانہ میں ان کی جائیدادوں، سرمایہ کاری اور دیگر خدشات سے متعلق مسائل کی اطلاع دینے اور حل کرنے کے لیے ایک زیادہ موثر اور جوابدہ نظام فراہم کرنا ہے۔
تلنگانہ میں غیر ملکی شہریوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے خصوصی میکانزم کا پروپوزل ایک اہم پیش رفت ہے، خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں لوگ بیرون ملک رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ریاست کے بہت سے غیر ملکی شہریوں نے تلنگانہ میں جائیدادیں، کاروبار اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اکثر اپنی غیر حاضری کی وجہ سے اپنے اثاثوں کے انتظام اور مسائل کے حل میں трудائی کا سامنا کرتے ہیں۔ موجودہ نظام، جو موجودہ سرکاری چینلوں اور بیوروکریسی پر انحصار کرتا ہے، غیر ملکی شہریوں کے سامنے آنے والی انوکھی چुनوتیوں کا سامنا کرنے میں سست اور غیر موثر ہو سکتا ہے۔ ایک خصوصی میکانزم قائم کرکے، تلنگانہ حکومت اس عمل کو بہتر بنانے اور اپنی ڈایاسپورا برادری کے لیے زیادہ جواب دہ اور سہایک ماحول فراہم کرنے کی امید کرتی ہے۔
اگر یہ میکانزم نافذ کیا جاتا ہے، تو توقع ہے کہ یہ غیر ملکی شہریوں کے لیے اپنی شکایات درج کرنے اور اپنے کیسز کی پیش رفت کا पतہ لگانے کے لیے ایک سنگل ونڈو سسٹم فراہم کرے گا۔ اس میں ایک خصوصی پورٹل، ہیلپ لائن یا دفتر کی تخلیق شامل ہو سکتی ہے جو خاص طور پر غیر ملکی شہریوں کی ضروریات کو پورا کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی کے اعلان کا غیر ملکی شہری برادری اور تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے، جو کہ اپنی تشویشوں کے حل کے لیے ایک زیادہ موثر اور مؤثر نظام کے لیے طویل عرصے سے وکالت کر رہے ہیں۔ یہ قدم تلنگانہ حکومت اور اس کی ڈایاسپورا برادری کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور ریاست میں سرمایہ کاروں کی اعتماد کو بڑھانے اور معاشی نمو کو فروغ دینے کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔